کاروار :9؍اکتوبر(ایس اؤ نیوز) حیدرآباد ۔ کرناٹک کے علاقے کو کلیان کرناٹک کےنام سےموسوم کرنے کےبعد شمالی کرناٹکا کے عوام کی دیرینہ مانگ کے مطابق ممبئی ۔ کرناٹک علاقےکو ’’کِتُّور کرناٹک ‘‘کے نام سے موسوم کرنے کےلئے ریاستی کابینہ نے منظوری دی ہے اور اہم بات یہ ہے کہ کتورکرناٹک کےعلاقےمیں اترکنڑا بھی شامل ہے۔
اترکنڑا کی بدنصیبی یہ ہے کہ اس ضلع کو نہ شمالی کرناٹک کےعلاقےمیں اور نہ ہی ساحلی علاقےمیں شامل کیا جاسکتاہے ۔ کہاجارہا ہے کہ اترکنڑا ضلع کو کتور کرناٹک میں شامل کئےجانےسےکوئی فائدہ حاصل ہونےوالا نہیں ہے۔ ریاستی وزیر اعلیٰ بسوراج بومائی کی صدارت میں منعقدہ کابینہ میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں ریاستی وزیر برائے قانون جے سی مدھوسوامی نے بتایا کہ شمالی کرناٹک کے اترکنڑا، بیلگام ، وجئےپور، گدگ، دھارواڑ، باگلکوٹ ، ہاویری اضلاع پر مشتمل علاقےکو آئندہ سے کتور کرناٹک کے نام سےپکاراجائے گا۔
کہا جاتاہے کہ ریاستی صدرمقام بنگلورو میں ساحلی علاقے کا مطلب صرف دکشن کنڑا اور اُڈپی اضلاع کا تصور ہے۔ ساحلی علاقے کو سرکاری سطح پر دی جانےو الی امداد میں سے زیادہ تر ان دونوں ضلعوں کو ہی ملتی ہے۔ محکمہ ماہی گیری کے منصوبہ جات کا تھوڑا سا حصہ اترکنڑا ضلع کو دیاجاتاہے۔ حالیہ دنوں میں ساحلی پٹی کے تین حلقوں کو کھارلینڈ منصوبے کے تحت 300کروڑروپئے منظور ہونے کے علاوہ کوئی خاص امداد ضلع کو نہیں ملی ہے۔ ویسے اترکنڑا ضلع کو پوری طرح ساحلی ضلع میں شماربھی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ سداپور، سرسی اور یلاپور ملناڈ میں شامل ہوتے ہیں تو ہلیال اور منڈگوڈ میدانی علاقے کہلاتے ہیں۔ اس طرح اترکنڑا ضلع تین مختلف علاقوں پر مشتمل ضلع ہے۔ جس کی وجہ سے اترکنڑاضلع کو نہ ساحلی علاقے میں ، نہ ملناڈ میں اور نہ کتور کرناٹک میں شامل کیاجاسکتاہے ۔
شمالی کرناٹک کی سہولیات سےمحروم : شمالی کرناٹکا کے اضلاع کو خصوصی طورپر اعلان کئے جانے والی سہولیات اترکنڑا ضلع کو بہت کم فراہم کی جاتی ہیں۔ بیلگام زونل کمشنریٹ دفتر کی تحویل والےاترکنڑا ضلع شامل ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر ننجوڈپا رپورٹ میں تین چار تعلقہ جات ترقی میں پسماندہ تعلقہ جات میں شمار کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ممبئی صوبے ، پھر اس کے بعد شمالی کرناٹکا میں شامل اترکنڑا ضلع بالکل ابتداء سے ہی بیلگام سےمنسلک ہے۔ کتور کرناٹک میں شامل کئے جانے کا اہم سبب بھی یہی ہے۔ یہاں خاص بات یہ ہےکہ حکومت جو کچھ سہولیات کتو رکرناٹک کو دیتی ہے وہ اترکنڑا ضلع کو بھی دستیاب ہونا ضروری ہے۔
ساحل کےنام پر تفریق نہ کریں : سرکاری سطح پر ساحلی پٹی کا مطلب صرف دکشن کنڑا اور اُڈپی کو ہی شما ر کیا جاتاہے۔ افسران کو بھی غالباً اتنی ہی جانکاری ہے۔ جب کہ اترکنڑا ضلع بھی ساحلی ضلع ہے، ان باتوں کو دیکھتے ہوئے عوام کا یہی کہنا ہے کہ افسران کو سرکاری منصوبہ جات میں تفریق نہیں نہیں کرنا چاہئے اور ترقیاتی منصوبوں میں اُترکنڑا کو بھی شامل کرکے فند جاری ہونے پر فنڈ کو برابر تقسیم کرنا چاہئے۔
کتور اور ساحلی علاقےکی سہولیات فراہم ہوں:مقامی عوام کا کہنا ہے کہ اترکنڑا ضلع جغرافیائی طورپر مختلف حدود رکھتاہے۔ اترکنڑا ضلع کو کتور اور ساحلی کرناٹک کو ملنے والی دونوں طرح کی سہولیات ملنی چاہئے۔ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حکومتی سطح پر نافذ کئےجانے والے منصوبوں میں اترکنڑا ضلع سے بھی انصاف کرے۔